العروۃ الوثقی
۔۔۔۔
کمالِ شعر و سخن ہے ثنا محمدؐ کی
یہ ضو ہے صل وسلم علی محمدؐ کی
رہا خلیل کے لب پر جو ربنا وابعث
ہے وہ تتمۂ کعبہ دعا محمدؐ کی
نزاعِ نور و بشر کا جہان کیا جانے؟
کہ شانیں اس سے بھی اونچی ہیں کیا محمدؐ کی؟
خدا کا فیصلہ لا ترفعوا ابد تک ہے
کہ ہے ہر آیتِ قرآں صدا محمدؐ کی
بچے گا گردشِ دوراں کی ظلمتوں سے وہی
ہے جس کا عروۂ وثقیٰ ضیا محمدؐ کی
وہ نعرہ ہے اسی جرأت کا آج پھر داعی
ندا تھی جیسی یمامہ میں ’’یا محمدؐ‘‘ کی
ہے فرض و واجب و نفل اور بحثِ دیں ورنہ
ہے جانِ عشق و وفا ہر ادا محمدؐ کی
الستُ سے جو کھِلے ہیں بربکم کے چمن
ہے سب میں نکہتِ قالوا بلیٰ محمدؐ کی
نہیں مسیح کا بس حرفِ اسمہ احمدؐ
نوید لائے ہیں سب انبیا محمدؐ کی
خلیفہ اس لیے رب نے بنایا آدم کو
کہ ہے ریاستِ ارض و سما محمدؐ کی
کمالِ خیر کا معیار بھی محمدؐ ہیں
متاعِ علم بھی ہے حق رسا محمدؐ کی
ہے اُن سے عشق چراغاں تلک ہی کیوں آصف!
عمل میں بھی ہو منور وفا محمدؐ کی
